Punjab Environment and Waste Management Laws 2026
حکومتِ پنجاب کا صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بڑا فیصلہ۔ ستھرا پنجاب ایکٹ کے تحت کچرا پھیلانے اور ماحول کو آلودہ کرنے والوں پر بھاری جرمانوں اور قید کی سزاؤں کی منظوری۔
ستھرا پنجاب مشن اور نئے قانونی اقدامات
حکومتِ پنجاب نے صوبے بھر میں صفائی ستھرائی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے ستھرا پنجاب ایکٹ 2026 کی منظوری دے دی ہے۔ اس ایکٹ کا بنیادی مقصد شہریوں میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا اور انفرادی یا صنعتی سطح پر کچرا پھیلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنا ہے۔ یہ قوانین نہ صرف شہروں بلکہ دیہاتوں اور صنعتی علاقوں پر بھی یکساں نافذ ہوں گے۔
ان قوانین کے ذریعے حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ اب گلیوں، بازاروں یا عوامی مقامات پر کچرا پھینکنا محض ایک اخلاقی برائی نہیں بلکہ ایک قابلِ سزا جرم ہے۔ انتظامیہ کو خصوصی اختیارات دیے گئے ہیں تاکہ وہ موقع پر ہی جرمانے عائد کر سکیں اور سنگین خلاف ورزیوں کی صورت میں مقدمات درج کر سکیں۔
جرمانوں اور سزاؤں کی تفصیلی فہرست
منظور شدہ ایکٹ کے مطابق مختلف خلاف ورزیوں پر درج ذیل جرمانے عائد کیے جائیں گے
عام صفائی کی خلاف ورزی
اگر کوئی شہری اپنے گھر، دکان، دفتر یا کسی بھی عمارت کی حدود میں کچرا، گندگی یا پلاسٹک بیگ صاف کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے درج ذیل جرمانے ادا کرنے ہوں گے
رہائشی علاقوں کے لیے: 1000 روپے۔
دیگر مقامات (دکان، دفتر وغیرہ) کے لیے: 2000 روپے۔
گندگی اور آلودگی پھیلانا
کچرا اٹھانے یا ٹھکانے لگانے کے سرکاری نظام کی خلاف ورزی کرنے پر 5000 روپے تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح، اگر کوئی ٹھوس کچرا یا گھریلو فضلہ بغیر اجازت کے اکٹھا کرتا ہوا پایا گیا تو اسے 10000 روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
ماحول کو نقصان پہنچانا
عوامی یا نجی مقامات پر ماحول کو آلودہ کرنے یا ایسی سرگرمی جس سے عوامی صحت کو خطرہ لاحق ہو، اس پر بھاری جرمانے رکھے گئے ہیں:
عوامی مقامات پر آلودگی پھیلانے پر: 10000 روپے۔
نجی مقامات پر آلودگی پھیلانے پر: 5000 روپے۔
سنگین جرائم اور قید کی سزائیں
ایکٹ کے دوسرے حصے میں ان جرائم کا ذکر ہے جن کی سزا صرف جرمانہ نہیں بلکہ قید بھی ہو سکتی ہے
کچرا جلانا
نجی یا عوامی مقامات پر ٹھوس کچرے کو آگ لگانا ایک سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس کی سزا درج ذیل ہے
پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ۔
دو سال تک قید کی سزا
یا دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جا سکتی ہیں۔
صفائی کے کام میں مداخلت
اگر کوئی شخص سرکاری اہلکار کو اس کی فرائض کی ادائیگی سے روکتا ہے یا اس کے کام میں رکاوٹ ڈالتا ہے تو اسے
پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ۔
ایک سال تک قید
یا دونوں سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ٹائر جلانا
ایندھن کے طور پر ٹائروں کو جلانا ماحول کے لیے انتہائی خطرناک ہے، اس لیے اس پر بھی 500,000 روپے جرمانہ اور 2 سال تک قید کی سخت سزا مقرر کی گئی ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
جرمانہ کون عائد کر سکتا ہے؟
حکومت کی جانب سے مقرر کردہ افسران کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قانون کی خلاف ورزی پر چالان کر سکیں۔
کیا جرمانوں کی رقم میں اضافہ ہو سکتا ہے؟
جی ہاں، ایک ہی جرم کو بار بار دہرانے کی صورت میں جرمانوں کی رقم دگنی کی جا سکتی ہے اور اجازت نامہ بھی منسوخ کیا جا سکتا ہے۔
شہری شکایت کہاں درج کروا سکتے ہیں؟
شہری اپنے علاقے میں گندگی یا قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ کمیٹی یا حکومتِ پنجاب کے نمبر پر اطلاع دے سکتے ہیں۔

😊😊