Federal Government Office Timings Post-Ramzan 2026
حکومتِ پاکستان نے رمضان المبارک اور عید الفطر 2026 کے بعد وفاقی سرکاری دفاتر کے نئے اوقاتِ کار کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔ 5 روزہ اور 6 روزہ ورکنگ ویک کے لیے الگ الگ شیڈول۔ مکمل تفصیلات یہاں پڑھیں۔
وفاقی سرکاری دفاتر کے اوقاتِ کار میں تبدیلی
حکومتِ پاکستان، کابینہ سیکرٹریٹ (اسٹیبلشمنٹ ڈویژن) نے ایک تازہ ترین نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے جس کے تحت رمضان المبارک 2026 کے اختتام اور عید الفطر کی تعطیلات کے بعد تمام وفاقی سرکاری دفاتر کے اوقاتِ کار کو معمول پر لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں، رمضان کے مقدس مہینے میں ملازمین کی سہولت اور روزے کی مشقت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کام کے گھنٹے کم کر دیے جاتے ہیں، تاہم اب دفتری نظام کو دوبارہ مکمل فعال بنانے کے لیے نیا شیڈول نافذ کر دیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ تمام وفاقی وزارتوں، ڈویژنز، منسلک محکموں اور ذیلی دفاتر پر فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ اس تبدیلی کا مقصد عوامی خدمات کی فراہمی کو تیز کرنا اور دفتری امور کو بروقت مکمل کرنا ہے۔
نئے اوقاتِ کار کی تفصیلات
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں دفاتر کو دو مختلف زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ کام کی نوعیت کے حساب سے نظم و ضبط برقرار رہے۔
پانچ روزہ ورکنگ ویک (پیر سے جمعہ)
وہ تمام وفاقی دفاتر جو ہفتے میں 5 دن کام کرتے ہیں، ان کے لیے درج ذیل اوقات مقرر کیے گئے ہیں
کام کا وقت: صبح 08:00 بجے سے دوپہر 04:00 بجے تک۔
نماز اور کھانے کا وقفہ: دوپہر 01:00 بجے سے 01:30 بجے تک۔
کل دورانیہ: 8 گھنٹے روزانہ۔
یہ اوقاتِ کار پیر، منگل، بدھ اور جمعرات کے لیے یکساں ہوں گے۔ جمعہ کے دن بھی دفتری اوقات یہی رہیں گے، تاہم نمازِ جمعہ کے لیے خصوصی وقفہ دیا جائے گا۔
چھ روزہ ورکنگ ویک (پیر سے ہفتہ)
وہ دفاتر یا ادارے جہاں کام کی زیادتی کی وجہ سے ہفتے میں 6 دن کام ہوتا ہے، ان کا شیڈول درج ذیل ہے
کام کا وقت: صبح 08:00 بجے سے دوپہر 03:00 بجے تک۔
نماز اور کھانے کا وقفہ: دوپہر 01:00 بجے سے 01:30 بجے تک۔
کل دورانیہ: 7 گھنٹے روزانہ۔
چھ روزہ ورکنگ ویک والے دفاتر میں ہفتہ کا دن بھی کام کے لیے مخصوص ہوگا تاکہ عوامی معاملات میں کوئی تعطل پیدا نہ ہو۔
نوٹیفیکیشن کی اہمیت اور ملازمین پر اثرات
رمضان کے بعد اوقاتِ کار کی بحالی محض ایک انتظامی کارروائی نہیں ہے بلکہ اس کے دوررس اثرات ہوتے ہیں
دفتری نظم و ضبط کی واپسی
رمضان کے دوران اوقاتِ کار کم ہونے سے کئی اہم فائلیں اور منصوبے سست روی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نئے اوقات (صبح 8 سے شام 4 بجے) کے نفاذ سے دفتری پہیہ دوبارہ تیزی سے گھومنا شروع ہو جائے گا۔
عوامی سہولت
سرکاری دفاتر میں اپنے کاموں کے لیے آنے والے شہریوں کو اب زیادہ وقت ملے گا۔ صبح 8 بجے دفتر کھلنے سے وہ لوگ جو دور دراز سے آتے ہیں، اپنے کام جلد نمٹا سکیں گے۔
توانائی کی بچت
صبح سویرے کام شروع کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ دن کی روشنی کا بھرپور استعمال ہوتا ہے، جس سے بجلی کے استعمال میں کسی حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔
صوبائی حکومتوں کا ردِ عمل
وفاقی حکومت کے نوٹیفیکیشن کے بعد، توقع کی جا رہی ہے کہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی صوبائی حکومتیں بھی جلد ہی اپنے اپنے نوٹیفیکیشن جاری کریں گی۔ عام طور پر صوبائی حکومتیں وفاقی اوقاتِ کار کی ہی پیروی کرتی ہیں، تاہم بعض اوقات مقامی ضرورتوں کے مطابق ان میں 30 منٹ یا ایک گھنٹے کا فرق ہو سکتا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
یہ نئے اوقاتِ کار کب سے نافذ ہوں گے؟
نوٹیفیکیشن کے مطابق یہ اوقات فوری طور پر (یعنی عید الفطر کی چھٹیوں کے بعد پہلے ورکنگ ڈے سے) نافذ العمل ہوں گے۔
کیا یہ اوقات تمام نجی اداروں پر بھی لاگو ہوتے ہیں؟
نہیں، یہ نوٹیفیکیشن صرف وفاقی سرکاری دفاتر کے لیے ہے۔ نجی ادارے اپنے اوقاتِ کار خود طے کرنے کے مجاز ہیں۔
کیا بینکوں کے اوقات میں بھی تبدیلی ہوگی؟
اسٹیٹ بینک آف پاکستان عام طور پر بینکوں کے لیے الگ نوٹیفیکیشن جاری کرتا ہے، لیکن وہ بھی وفاقی حکومت کے فیصلے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنے اوقاتِ کار ترتیب دیتا ہے۔
کیا اسکولوں اور کالجوں کے اوقات بھی یہی ہوں گے؟
تعلیمی اداروں کے اوقاتِ کار وزارتِ تعلیم یا متعلقہ صوبائی محکمہ تعلیم طے کرتا ہے۔ اس نوٹیفیکیشن کا براہِ راست تعلق صرف انتظامی دفاتر سے ہے۔
