مریم نواز کا “سونا اگلتا پنجاب” منصوبہ: کاشتکاروں کے لیے سولر سسٹم اور منی ڈیم پر بھاری سبسڈی
حکومتِ پنجاب نے صوبے کے بارانی علاقوں میں زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے وژن “سونا اگلتا پنجاب” کے تحت بارانی اضلاع کے کسانوں کو پانی کے ذخیرے اور آبپاشی کے لیے کروڑوں روپے کی مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
اگر آپ کا تعلق اٹک، چکوال، راولپنڈی یا ڈیرہ غازی خان جیسے علاقوں سے ہے، تو یہ تحریر آپ کے لیے انتہائی اہم ہے۔
منصوبے کے اہم خدوخال (Key Features)
اس اسکیم کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ پانی کی کمی والے علاقوں میں فصلوں کی پیداوار بڑھائی جا سکے:
1. واٹر ریزروائرز اور منی ڈیمز کی تعمیر
ایسے علاقے جہاں نہری پانی دستیاب نہیں، وہاں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے منی ڈیمز کی تعمیر کے لیے حکومت 17 لاکھ 50 ہزار روپے تک کی مالی مدد دے رہی ہے۔
2. سولر لفٹ اریگیشن اسکیم
پانی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے اور بجلی کے بھاری بلوں سے نجات کے لیے شمسی توانائی پر چلنے والے پمپنگ سسٹم لگائے جائیں گے۔ اس کے لیے حکومت 13 لاکھ روپے تک کی سبسڈی فراہم کر رہی ہے۔
اہل اضلاع کی فہرست (Target Districts)
یہ اسکیم خاص طور پر پنجاب کے ان اضلاع کے لیے ہے جہاں زمین بارانی ہے:
پوٹھوہار ریجن: اٹک، چکوال، جہلم، راولپنڈی، تلہ گنگ۔
دیگر اضلاع: خوشاب، میانوالی، تونسہ، اور ڈیرہ غازی خان۔
درخواست دینے کا طریقہ اور ضروری دستاویزات
کاشتکار درج ذیل سادہ طریقہ کار پر عمل کر کے اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں
فارم کا حصول: درخواست فارم آپ اپنے قریبی ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (اصلاحِ آبپاشی) کے دفتر سے حاصل کر سکتے ہیں یا محکمہ زراعت کی آفیشل ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔

لازمی کاغذات:
کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی۔
زمین کی فردِ ملکیت (تازہ ترین)۔
جمع کروانے کی جگہ: مکمل درخواست فارم متعلقہ ضلعی دفتر میں جمع کروائیں۔
اہم نوٹ: درخواستیں جمع کروانے کی آخری تاریخ 17 اپریل 2026 ہے۔ مقررہ تاریخ کے بعد موصول ہونے والی درخواستیں قابلِ قبول نہیں ہوں گی۔
انتخاب کا طریقہ کار (Selection Process)
اگر کسی ضلع میں درخواستیں مقررہ کوٹہ سے زیادہ موصول ہوئیں تو شفافیت برقرار رکھنے کے لیے قرعہ اندازی کی جائے گی۔ کامیاب امیدواروں کو محکمہ زراعت کی کمیٹی کی منظوری کے بعد فنڈز جاری کیے جائیں گے۔
مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں
اگر آپ کو فارم بھرنے یا اہلیت کے بارے میں کوئی دشواری ہے تو پنجاب زراعت کی ہیلپ لائن پر کال کریں:
ہیلپ لائن نمبر: 0800-17000
www.agripunjab.gov.pk ویب سائٹ
اکثر پوچھے گئے سوالات (Frequently Asked Questions)
1. وزیراعلیٰ پنجاب سولر اریگیشن اسکیم 2026 کے لیے کون سے اضلاع اہل ہیں؟
اس اسکیم کا فائدہ پنجاب کے 9 مخصوص بارانی اضلاع کے کاشتکار اٹھا سکتے ہیں، جن میں اٹک، چکوال، جہلم، راولپنڈی، تلہ گنگ، خوشاب، میانوالی، تونسہ اور ڈیرہ غازی خان شامل ہیں۔
2. منی ڈیم اور سولر لفٹ اریگیشن سسٹم پر کتنی سبسڈی دی جا رہی ہے؟
حکومتِ پنجاب واٹر ریزروائرز یا منی ڈیم کی تعمیر کے لیے 1,750,000 روپے تک اور شمسی توانائی سے چلنے والے لفٹ اریگیشن سسٹم کے لیے 1,300,000 روپے تک کی مالی امداد فراہم کر رہی ہے۔
3. درخواست جمع کروانے کی آخری تاریخ کیا ہے؟
درخواستیں جمع کروانے کی آخری تاریخ 17 اپریل 2026 ہے۔ امیدواروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ مقررہ وقت سے پہلے اپنی دستاویزات جمع کروائیں۔
4. کیا درخواست فارم آن لائن ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے؟
جی ہاں، آپ محکمہ زراعت پنجاب کی آفیشل ویب سائٹ www.agripunjab.gov.pk سے درخواست فارم مفت ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ فارم متعلقہ ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (اصلاحِ آبپاشی) کے دفتر سے بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
5. اس اسکیم کے لیے کون سی دستاویزات ضروری ہیں؟
درخواست کے ساتھ آپ کو اپنے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ (CNIC) کی فوٹو کاپی اور متعلقہ اراضی کی فردِ ملکیت لف کرنا ہوگی۔
6. کیا اس اسکیم میں انتخاب قرعہ اندازی کے ذریعے ہوگا؟
جی ہاں، اگر درخواستوں کی تعداد مختص کردہ کوٹہ (50 ڈیمز اور 50 سولر سسٹمز) سے تجاوز کر گئی تو شفافیت کے لیے متعلقہ کمیٹی کی زیرِ نگرانی قرعہ اندازی کی جائے گی۔
