وزیرِ اعلیٰ پنجاب ماحولیاتی قیادت ترقیاتی تربیتی پروگرام مرحلہ دوم نوجوانوں کے لیے ماہانہ وظیفہ اور خدمتِ خلق کا سنہری موقع
وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا “پاکیزہ پنجاب، سموگ سے پاک پنجاب” تصور نو فارغ التحصیل نوجوانوں کے لیے با معاوضہ تربیتی پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز، اہلیت کا معیار اور شمولیت کی مکمل تفصیلات یہاں ملاحظہ فرمائیں۔
حکومتِ پنجاب نے صوبے کو فضائی آلودگی، بالخصوص سموگ کے زہریلے اثرات سے بچانے اور نئی نسل کو خود مختار بنانے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی مہم “میرا پنجاب، سموگ سے پاک” کے تحت، ماحولیاتی قیادت ترقیاتی تربیتی پروگرام کے انتہائی کامیاب پہلے مرحلے کے بعد اب مرحلہ دوم کا بہت جلد آغاز کیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف قدرتی ماحول کے تحفظ کے لیے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے گا بلکہ انہیں عملی تجربہ اور معقول مالی معاونت بھی فراہم کرے گا۔
اگر آپ حال ہی میں تعلیمی مدارج مکمل کر چکے ہیں اور ماحول دوست پنجاب کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں، تو یہ تحریر آپ کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگی۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا “ماحولیاتی قیادت” کا تصور کیا ہے؟
پنجاب، خصوصاً لاہور، گزشتہ کئی برسوں سے سرما کے ایام میں بدترین سموگ کا شکار رہتا ہے۔ اس سنگین مسئلے کے پائیدار حل کے لیے محض سرکاری مشینری کافی نہیں، بلکہ عوامی شعور اور نوجوانوں کی عملی شمولیت ناگزیر ہے۔
وزیرِ اعلیٰ کا مقصد یہ ہے کہ نوجوانوں کو محض روزگار ہی نہ دیا جائے بلکہ انہیں “ماحولیاتی رہنما” بنایا جائے۔ اس تربیت کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو ماحولیاتی مسائل، ان کے اسباب اور حل کے بارے میں عملی معلومات فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنے معاشرے میں جا کر لوگوں کی رہنمائی کر سکیں اور حکومتی مہم کا ہراول دستہ بن سکیں۔ اس پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو معاشرتی خدمت کا ایک منفرد موقع میسر آئے گا جہاں وہ شجرکاری، آلودگی کے خاتمے اور فطرت دوست عادات کے فروغ کے لیے کام کریں گے۔
ماحولیاتی قیادت تربیتی پروگرام مرحلہ دوم کی تفصیلات
اس پروگرام کا پہلا مرحلہ انتہائی کامیاب رہا جس میں ہزاروں نوجوانوں نے شمولیت کی درخواست دی۔ اب دوسرے مرحلے کو مزید وسیع اور پرکشش بنایا جا رہا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق اس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
تربیت کا دورانیہ اور نشستیں
وقت: یہ تربیت عام طور پر تین ماہ پر محیط ہوتی ہے۔ یہ ایک مختصر مدتی مگر انتہائی جامع تربیتی نشست ہے۔
نشستوں کی تعداد: حکومتِ پنجاب نے اس مقصد کے لیے کثیر تعداد میں نشستیں مختص کی ہیں۔ توقع ہے کہ دوسرے مرحلے میں بھی ہزاروں نوجوانوں کا انتخاب کیا جائے گا تاکہ صوبے کے تمام اضلاع سے مساوی نمائندگی ممکن ہو سکے۔
ماہانہ وظیفہ
حکومتِ پنجاب نوجوانوں کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور انہیں معاشی طور پر مستحکم کرنا چاہتی ہے۔
مالی امداد: گزشتہ تجربات کی روشنی میں منتخب تربیت یافتگان کو پچیس ہزار روپے سے لے کر ساٹھ ہزار روپے تک ماہانہ وظیفہ دیے جانے کا امکان ہے (حتمی رقم کا اعلان دوسرے مرحلے کے باقاعدہ آغاز پر کیا جائے گا)۔ یہ رقم ان کی حوصلہ افزائی اور روزمرہ اخراجات میں معاونت کے لیے دی جاتی ہے۔
معاشرتی خدمت کا اعزازی سرٹیفکیٹ
تربیت کے کامیاب اختتام پر تمام شرکاء کو ایک باقاعدہ “معاشرتی خدمت کا اعزازی سرٹیفکیٹ” عطا کیا جائے گا۔ یہ سند محکمہ تحفظِ ماحول اور پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے مشترکہ طور پر جاری کی جائے گی، جو ان کے مستقبل کے پیشہ ورانہ سفر کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہوگی۔

اہلیت کا معیار: کون شامل ہو سکتا ہے؟
اس پروگرام میں شمولیت کے لیے معیار کو انتہائی سادہ رکھا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان اس سے مستفید ہو سکیں۔
رہائش: امیدوار کا پنجاب کا مستقل شہری (ڈومیسائل) ہونا لازمی ہے۔
تعلیمی قابلیت: امیدوار کا ہائر ایجوکیشن کمیشن سے منظور شدہ جامعہ سے فارغ التحصیل ہونا ضروری ہے۔ ترجیح ان نوجوانوں کو دی جائے گی جنہوں نے گزشتہ دو برسوں کے دوران اپنی تعلیم مکمل کی ہو۔
تعلیمی شعبہ: اگرچہ تمام شعبوں کے گریجویٹس درخواست دے سکتے ہیں، لیکن ماحولیاتی علوم، انجینئرنگ، زراعت، عمرانیات اور معاشرتی ترقی کے طلباء کو فوقیت دی جا سکتی ہے۔
عمر کی حد: امیدوار کی عمر اٹھارہ سے پچیس سال کے درمیان ہونی چاہیے۔
جذبہ: امیدوار میں انسانیت کی خدمت اور ماحولیاتی بہتری کے لیے کام کرنے کا سچا جذبہ ہونا چاہیے۔
شرکاء کی ذمہ داریاں اور کام کا دائرہ کار
منتخب ہونے والے “ماحولیاتی رہنماؤں” کا زیادہ تر کام زمینی حقائق کا جائزہ لینا اور فیلڈ میں سرگرم رہنا ہوگا۔ ان کی ذمہ داریوں میں درج ذیل امور شامل ہو سکتے ہیں:
عوامی شعور کی مہم: تعلیمی اداروں اور گلی محلوں میں جا کر سموگ کے نقصانات، پلاسٹک کے نقصانات اور شجرکاری کی ضرورت پر لوگوں کو قائل کرنا۔
شجرکاری: حکومتِ پنجاب کی شجرکاری مہم میں عملی حصہ لینا اور پودوں کی نشوونما کے لیے مقامی آبادی کو متحرک کرنا۔
آلودگی کی نشاندہی: اپنے علاقوں میں آلودگی پھیلانے والے عوامل (جیسے فصلوں کی باقیات جلانا، کوڑا کرکٹ کو آگ لگانا یا دھواں چھوڑتی گاڑیاں) کی نشان دہی کرنا اور حکام کو مطلع کرنا۔
اعداد و شمار کا حصول: ماحولیاتی جائزوں میں حصہ لینا اور آلودگی کے سدِ باب کے لیے اپنی تجاویز پیش کرنا۔
شمولیت کا طریقہ کار اور انتخاب
فی الوقت دوسرے مرحلے کے لیے درخواستوں کی وصولی کا آغاز “بہت جلد” ہونے والا ہے۔ باقاعدہ اعلان کے بعد درج ذیل طریقہ کار اپنایا جائے گا:
آن لائن اندراج: درخواستیں صرف حکومتی ویب سائٹ کے ذریعے ہی وصول کی جائیں گی۔
درخواست فارم: امیدواروں کو اپنی ذاتی، تعلیمی اور رہائشی معلومات آن لائن فارم میں درست طور پر درج کرنی ہوں گی۔
کاغذات کی فراہمی: تعلیمی اسناد، شناختی کارڈ اور ڈومیسائل کی نقول کمپیوٹر کے ذریعے فراہم کرنی ہوں گی۔
انتخابی مرحلہ: درخواستوں کی جانچ پڑتال کے بعد موزوں امیدواروں کو گفتگو (انٹرویو) یا مختصر امتحان کے لیے بلایا جا سکتا ہے۔ حتمی انتخاب صرف میرٹ اور جذبے کی بنیاد پر ہوگا۔
کثرت سے پوچھے جانے والے سوالات
کیا یہ تربیتی پروگرام مستقل ملازمت میں تبدیل ہو سکتا ہے؟
نہیں، یہ ایک مخصوص مدت کے لیے تربیتی عمل ہے۔ تاہم اس دوران حاصل ہونے والا تجربہ اور سرکاری سند مستقبل میں روزگار کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
کیا دوسرے صوبوں کے شہری اس میں حصہ لے سکتے ہیں؟
نہیں، یہ پروگرام فی الحال صرف پنجاب کے مستقل رہائشیوں کے لیے مخصوص ہے۔
کیا وظیفہ ہر ماہ باقاعدگی سے دیا جاتا ہے؟
جی ہاں، حاضری اور تفویض کردہ کام کی کامیاب تکمیل پر ماہانہ مالی مشاہرہ باقاعدگی سے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔
کیا طالب علم اپنی تعلیم کے دوران اس میں حصہ لے سکتے ہیں؟
یہ پروگرام بنیادی طور پر ان نوجوانوں کے لیے ہے جو اپنی تعلیم مکمل کر چکے ہیں تاکہ وہ اپنی تمام تر توجہ اس مہم پر مرکوز کر سکیں۔
مزید معلومات کے لیے کہاں رابطہ کیا جائے؟
اس مقصد کے لیے محکمہ تحفظِ ماحول کی ہیلپ لائن 1373 یا واٹس ایپ نمبر 0304-1373000 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
