حکومتِ پاکستان ہاؤسنگ فنانس اسکیم میں اہم ترامیم اور اپنا گھر حاصل کرنے کا سنہری موقع
پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی اور رہائشی سہولیات کی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے ایک انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس نے اپنی مخصوص مارک اپ سبسڈی اور رسک شیئرنگ اسکیم میں بنیادی تبدیلیاں منظور کر لی ہیں۔ ان ترامیم کا بنیادی مقصد غریب اور متوسط طبقے کے لیے اپنا گھر بنانے کے خواب کو حقیقت میں بدلنا اور ملک میں تعمیراتی شعبے کو نئی زندگی دینا ہے۔ اب عام شہری نہ صرف زیادہ قرض حاصل کر سکیں گے بلکہ انہیں مارک اپ یا سود کی شرح میں بھی نمایاں ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔
اس تفصیلی مضمون میں ہم ان نئی ترامیم، قرض کے حصول کی شرائط اور اس اسکیم سے حاصل ہونے والے فوائد کا مکمل جائزہ لیں گے۔
اسکیم کی نئی حدود اور فنانسنگ کی تفصیلات
حکومت نے تعمیراتی مواد کی قیمتوں میں اضافے کو دیکھتے ہوئے قرض کی رقم اور گھر کے سائز کی حد میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔ پہلے یہ اسکیم صرف چھوٹے گھروں تک محدود تھی لیکن اب اسے وسیع کر دیا گیا ہے۔
پہلے اس اسکیم کے تحت صرف پانچ مرلہ گھر یا تیرہ سو ساٹھ مربع فٹ کے فلیٹ کے لیے قرض دیا جاتا تھا۔ نئی ترامیم کے بعد اب شہری دس مرلہ یعنی دو ہزار سات سو بیس مربع فٹ تک کے گھر کے لیے بھی مالی معاونت حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح فلیٹ کے سائز کی حد بھی بڑھا کر پندرہ سو مربع فٹ کر دی گئی ہے۔
قرض کی رقم میں بھی بہت بڑا اضافہ کیا گیا ہے۔ پہلے زیادہ سے زیادہ پینتیس لاکھ روپے تک کا قرض ملتا تھا لیکن اب اسے بڑھا کر ایک کروڑ روپے تک کر دیا گیا ہے۔ یہ اضافہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے کہ بڑے شہروں میں رہنے والے افراد بھی زمین کی خریداری اور تعمیراتی لاگت کو پورا کر سکیں۔
مارک اپ ریٹ میں کمی اور آسان واپسی
اس اسکیم کی سب سے بڑی کشش اس کا نہایت کم مارک اپ ریٹ ہے۔ حکومت نے اب تمام اقسام کے گھروں اور فلیٹس کے لیے مارک اپ کی شرح کو صرف پانچ فیصد پر مقرر کر دیا ہے۔ اس سے پہلے بعض درجات کے لیے یہ شرح آٹھ فیصد تھی لیکن اب اسے بھی کم کر کے پانچ فیصد پر ایڈجسٹ کر دیا گیا ہے۔
قرض کی واپسی کے لیے بیس سال تک کا طویل عرصہ دیا گیا ہے جس سے ماہانہ قسط کا بوجھ بہت کم ہو جاتا ہے۔ حکومت پہلے دس سال تک مارک اپ کی سبسڈی خود برداشت کرے گی تاکہ ابتدائی سالوں میں شہری آسانی سے اپنے گھر کی تعمیر مکمل کر کے قسطیں ادا کر سکیں۔ بینکوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ نوے فیصد تک فنانسنگ فراہم کریں جبکہ شہری کو صرف دس فیصد رقم خود لگانی ہوگی۔
اہلیت کا معیار اور درخواست دینے کی شرائط
اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے کچھ بنیادی شرائط مقرر کی گئی ہیں تاکہ حقدار افراد ہی اس سے مستفید ہوں۔
صرف وہ پاکستانی شہری اس کے اہل ہوں گے جن کے پاس کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ موجود ہو۔
درخواست گزار کے نام پر پاکستان میں پہلے سے کوئی رہائشی جائیداد نہیں ہونی چاہیے۔
یہ اسکیم خاص طور پر ان لوگوں کے لیے ہے جو زندگی میں پہلی بار اپنا گھر خریدنے یا تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
درخواست گزار اپنے پاس موجود پلاٹ پر گھر کی تعمیر، بنا بنایا گھر یا فلیٹ خریدنے، یا نیا پلاٹ خرید کر اس پر تعمیر کرنے کے لیے بھی قرض کی درخواست دے سکتا ہے۔

شامل ادارے اور نفاذ کا طریقہ کار
اس اسکیم کو پورے پاکستان میں فعال بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان تمام کمرشل، اسلامک اور مائیکرو فنانس بینکوں کی نگرانی کر رہا ہے۔ ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی اور پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی بھی اس عمل میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
حکومت نے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی پروسیسنگ فیس یا وقت سے پہلے قرض کی واپسی پر جرمانہ وصول نہ کریں۔ اس سے شہریوں کو مالی سہولت ملے گی اور وہ بلا خوف و خطر بینکوں سے رجوع کر سکیں گے۔
مستقبل کے اہداف اور پانچ لاکھ گھروں کا منصوبہ
حکومت نے اگلے چار سالوں کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت کل پانچ لاکھ ہاؤسنگ یونٹس کی تعمیر کی جائے گی۔ سال دو ہزار پچیس سے چھبیس کے دوران پچاس ہزار یونٹس سے اس کا آغاز ہوگا اور ہر گزرتے سال کے ساتھ اس تعداد میں اضافہ کیا جائے گا یہاں تک کہ دو ہزار انتیس تک یہ سالانہ دو لاکھ یونٹس تک پہنچ جائے گی۔
یہ منصوبہ نہ صرف شہریوں کو چھت فراہم کرے گا بلکہ اس سے پاکستان کی معیشت میں بھی تیزی آئے گی۔ تعمیراتی شعبے سے وابستہ درجنوں صنعتیں فعال ہوں گی اور لاکھوں ہنرمند افراد کو روزگار ملے گا۔
اختتامی کلمات
حکومتِ پاکستان کی جانب سے ہاؤسنگ فنانس اسکیم میں کی گئی یہ ترامیم ایک سنگ میل ثابت ہوں گی۔ دس ملین روپے تک کا قرض اور صرف پانچ فیصد مارک اپ ریٹ وہ سہولتیں ہیں جو ماضی میں کبھی میسر نہیں تھیں۔ اگر آپ کرائے کے گھر میں رہ کر تھک چکے ہیں اور اپنا گھر بنانے کی خواہش رکھتے ہیں تو یہ وقت کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ اپنی دستاویزات تیار کریں اور قریبی بینک سے رجوع کر کے اس قومی اسکیم کا حصہ بنیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا میں صرف پلاٹ خریدنے کے لیے قرض لے سکتا ہوں
جی نہیں، یہ اسکیم صرف پلاٹ کی خریداری کے لیے نہیں ہے بلکہ اس میں پلاٹ کی خریداری کے ساتھ گھر کی تعمیر کی شرط بھی شامل ہے تاکہ رہائشی یونٹس میں اضافہ ہو سکے۔
کیا اوورسیز پاکستانی بھی اس اسکیم کے اہل ہیں
اگر آپ کے پاس کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ موجود ہے اور آپ پاکستان میں پہلی بار گھر خرید رہے ہیں تو آپ اس اسکیم کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
کیا پرانے قرضوں پر مارک اپ کم ہوگا
جی ہاں، جن لوگوں نے پہلے آٹھ فیصد پر قرض لیا تھا، نئی پالیسی کے تحت ان کا مارک اپ بھی پانچ فیصد پر ایڈجسٹ کر دیا جائے گا جس سے ان کی ماہانہ قسط کم ہو جائے گی۔
قرض کی منظوری میں کتنا وقت لگتا ہے
اسٹیٹ بینک کی ہدایات کے مطابق بینکوں کو ایک مقررہ وقت کے اندر درخواست کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے، عام طور پر تمام کاغذات مکمل ہونے کے بعد یہ عمل چند ہفتوں میں مکمل ہو جاتا ہے۔
کیا دو بھائی مل کر درخواست دے سکتے ہیں
جی ہاں، مشترکہ آمدنی کی بنیاد پر گھر کے افراد مل کر بھی درخواست دے سکتے ہیں تاکہ قرض کی زیادہ رقم حاصل کی جا سکے، بشرطیکہ وہ اہلیت کے معیار پر پورا اترتے ہوں۔
بینک میں کون کون سی دستاویزات جمع کروانی ہوں گی
آپ کو اپنا شناختی کارڈ، آمدنی کا ثبوت یعنی سیلری سلپ یا بینک اسٹیٹمنٹ، اور متعلقہ پراپرٹی کے کاغذات جمع کروانے ہوں گے۔ بینک آپ سے یہ بیانیہ حلفی بھی لے گا کہ آپ کا پہلے سے کوئی گھر نہیں ہے۔
