Punjab AI Forest Monitoring App 2026 Registration and Complete Details
پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات اور جنگلات کی کٹائی جیسے سنگین مسائل سے نمٹنے کے لیے حکومتِ پنجاب نے ایک انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے پاکستان کی پہلی مصنوعی ذہانت پر مبنی جنگلات کی نگرانی کرنے والی موبائل ایپلی کیشن متعارف کروا دی گئی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف صوبے بھر میں موجود سبزے کی حفاظت کرے گی بلکہ غیر قانونی طور پر درخت کاٹنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کو بھی یقینی بنائے گی۔ اس تحریر میں ہم آپ کو اس جدید نظام کی خصوصیات، اس کے کام کرنے کے طریقے اور ماحولیات پر اس کے مثبت اثرات سے آگاہ کریں گے۔
پنجاب اے آئی فاریسٹ مانیٹرنگ ایپ کا تعارف
جنگلات کسی بھی ملک کی معیشت اور ماحول کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے گزشتہ چند دہائیوں میں پاکستان میں جنگلات کے رقبے میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ روایتی نگرانی کے طریقے وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے جنگلات کی حفاظت کے لیے ناکافی ثابت ہو رہے تھے۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب حکومت نے مصنوعی ذہانت کا سہارا لیا ہے۔ یہ ایپ سیٹلائٹ تصاویر اور زمین پر نصب سینسرز کے ذریعے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ کرتی ہے اور کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کی صورت میں فوری الرٹ جاری کرتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کے ذریعے نگرانی کا نظام
اس ایپ کا سب سے اہم پہلو اس کا خودکار نظام ہے۔ ماضی میں جنگلات کی نگرانی کے لیے گارڈز کو میلوں پیدل سفر کرنا پڑتا تھا، لیکن اب یہ ایپ خلا میں موجود سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی ہائی ریزولوشن تصاویر کا موازنہ کرتی ہے۔ اگر کسی خاص علاقے میں درختوں کی تعداد کم ہوتی ہے یا وہاں آگ لگنے جیسے واقعات پیش آتے ہیں، تو مصنوعی ذہانت کا الگورتھم فوراً اسے پہچان لیتا ہے۔ یہ نظام اتنا جدید ہے کہ یہ درختوں کی اقسام اور ان کی نشوونما کی رفتار کا بھی درست اندازہ لگا سکتا ہے، جس سے محکمہ جنگلات کو اپنی پالیسیاں بنانے میں مدد ملتی ہے۔
ایپلی کیشن کی اہم خصوصیات اور سہولیات
فوری اطلاع : اگر جنگل کے کسی حصے میں کلہاڑی یا آرے کے چلنے کی آواز یا دھوئیں کا پتہ چلتا ہے، تو متعلقہ افسر کے موبائل پر فوری پیغام موصول ہو جاتا ہے۔
ڈیجیٹل نقشہ سازی : پنجاب بھر کے جنگلات کا مکمل ڈیجیٹل نقشہ اس ایپ میں موجود ہے، جس سے ہر درخت کی لوکیشن معلوم کی جا سکتی ہے۔
درخت لگانے کی مہم کی نگرانی: ‘شجر کاری مہم’ کے تحت لگائے گئے نئے پودوں کی تصویر اور مقام اس ایپ میں درج کیا جاتا ہے تاکہ ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
عوامی شمولیت: شہری بھی اس ایپ کے ذریعے جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کی اطلاع حکومت کو دے سکتے ہیں، جس سے ‘کمیونٹی فاریسٹری’ کے تصور کو تقویت ملتی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا وژن اور ماحولیاتی تحفظ
وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف نے اس ایپ کے افتتاح کے موقع پر واضح کیا کہ “سرسبز پنجاب” حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس ایپ کا مقصد نہ صرف موجودہ جنگلات کو بچانا ہے بلکہ پنجاب کے رقبے پر سبزے کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بڑھانا بھی ہے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے جنگلات کی کوریج میں کم از کم پانچ فیصد اضافہ کیا جائے۔ یہ قدم سموگ جیسے مسائل پر قابو پانے کے لیے بھی انتہائی ناگزیر ہے جو ہر سال پنجاب کے بڑے شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
غیر قانونی کٹائی اور ٹمبر مافیا کا خاتمہ
جنگلات کی کٹائی میں ملوث ‘ٹمبر مافیا’ کے خلاف یہ ایپ ایک مضبوط ہتھیار ثابت ہوگی۔ چونکہ اب ہر علاقے کی نگرانی کمپیوٹرائزڈ طریقے سے ہو رہی ہے، اس لیے کسی بھی افسر یا گارڈ کے لیے چشم پوشی کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ ایپ میں موجود ‘جیو ٹیگنگ’ کی سہولت سے یہ پتہ چل جائے گا کہ کس علاقے سے درخت کٹا ہے اور اس وقت وہاں کون سا عملہ تعینات تھا۔ اس سے محکمے میں شفافیت آئے گی اور ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا سکے گی۔
شہریوں کے لیے ایپ کے استعمال کا طریقہ
عام شہری بھی اس ماحولیاتی جنگ میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔
پلے اسٹور سے ایپ ڈاؤن لوڈ کریں: پنجاب اے آئی فاریسٹ مانیٹرنگ ایپ اب عوام کے لیے دستیاب ہے۔
اندراج : اپنے موبائل نمبر اور قومی شناختی کارڈ کے ذریعے اکاؤنٹ بنائیں۔
رپورٹ درج کریں: اگر آپ کہیں درختوں کی کٹائی دیکھیں، تو ایپ کے ذریعے تصویر کھینچ کر اور لوکیشن شیئر کر کے شکایت درج کروا سکتے ہیں۔
شجر کاری میں حصہ لیں: آپ اپنے لگائے ہوئے پودے کی تصویر بھی ایپ پر اپ لوڈ کر سکتے ہیں تاکہ اسے سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنایا جا سکے۔
پنجاب کے مستقبل پر اثرات
اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے پنجاب کے موسم میں خوشگوار تبدیلی آنے کی توقع ہے۔ جنگلات کی تعداد بڑھنے سے زیرِ زمین پانی کی سطح برقرار رہے گی اور جنگلی حیات کو بھی تحفظ ملے گا۔ مصنوعی ذہانت کا یہ ماڈل دیگر صوبوں کے لیے بھی ایک مثال ہے کہ کس طرح جدید سائنس کو استعمال کر کے قدرتی وسائل کی حفاظت کی جا سکتی ہے۔ یہ منصوبہ ‘ڈیجیٹل پنجاب’ کی جانب ایک بڑا سنگِ میل ہے جہاں ٹیکنالوجی صرف سہولت کے لیے نہیں بلکہ بقا کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
عام طور پر پوچھے جانے والے سوالات
کیا یہ ایپ صرف سرکاری ملازمین کے لیے ہے؟
نہیں، یہ ایپ سرکاری افسران اور عام شہریوں دونوں کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے تاکہ ہر کوئی نگرانی میں حصہ لے سکے۔
کیا اس ایپ کے ذریعے سموگ کم ہو سکتی ہے؟
جی ہاں، جنگلات کی بہتر نگرانی اور شجر کاری سے ہوا کے معیار میں بہتری آئے گی جو سموگ کے خاتمے کا واحد پائیدار حل ہے۔
اگر کوئی غلط شکایت درج کرے تو کیا ہوگا؟
ایپ میں جعلی شکایات کو روکنے کے لیے تصدیقی نظام موجود ہے، اور غلط معلومات فراہم کرنے والے کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔
کیا یہ ایپ پورے پاکستان میں کام کرتی ہے؟
فی الحال یہ صرف صوبہ پنجاب کے حدود میں کام کر رہی ہے، تاہم جلد اسے دیگر صوبوں میں بھی متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔
