Professional dress code for Punjab School teachers 2026

بریکنگ نیوز: وزیراعلیٰ مریم نواز کا بڑا حکم! پنجاب بھر کے سرکاری اساتذہ کے لیے “بلیک گاؤن” لازمی قرار

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے محکمہ تعلیم میں نیا ڈریس کوڈ نافذ کر دیا ہے۔ 21 فروری 2026 سے تمام مرد و خواتین اساتذہ کے لیے دورانِ ڈیوٹی بلیک گاؤن پہننا لازمی ہوگا۔ تفصیلات اور سی ای اوز کو جاری ہدایات یہاں

وزیراعلیٰ پنجاب کا بڑا فیصلہ: تمام سرکاری اساتذہ کے لیے ‘بلیک گاؤن’ لازمی قرار، 21 فروری سے اطلاق

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر کے محکمہ تعلیم میں نظم و ضبط اور یکسانیت لانے کے لیے ایک اہم اور بڑا انتظامی فیصلہ کیا ہے۔ حکومت پنجاب نے تمام سرکاری سکولوں کے اساتذہ کے لیے ایک نیا اور سخت ڈریس کوڈ نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت دورانِ ڈیوٹی “بلیک گاؤن” (کالا گاؤن) پہننا لازمی ہوگا۔

یہ فیصلہ تعلیمی اداروں میں پیشہ ورانہ ماحول کو فروغ دینے اور اساتذہ کی الگ شناخت قائم کرنے کے ویژن کا حصہ ہے۔ اس حکم نامے کا اطلاق 21 فروری 2026 سے پورے پنجاب میں ہوگا۔

نئے ڈریس کوڈ کی اہم تفصیلات

وزیراعلیٰ کے حکم پر محکمہ سکول ایجوکیشن کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق، اس نئے ڈریس کوڈ میں کسی قسم کی کوئی تفریق نہیں رکھی گئی ہے۔

بلا تفریق صنف و علاقہ: یہ حکم نامہ پنجاب کے تمام اضلاع کے سرکاری سکولوں پر لاگو ہوگا۔ اس کا اطلاق تمام مرد اور خواتین اساتذہ (Male & Female Teachers) پر یکساں طور پر ہوگا۔

پروفیشنل شناخت: اساتذہ کو سکول کے اوقات کار کے دوران ایک باوقار سیاہ تعلیمی/پروفیشنل گاؤن پہننا ہوگا، جیسا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں یا عدلیہ میں پہنا جاتا ہے، تاکہ ان کی پیشہ ورانہ وقار میں اضافہ ہو۔

21 فروری کی ڈیڈ لائن اور “نو گاؤن، نو کلاس” پالیسی

حکومت نے اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے انتہائی سختی کا مظاہرہ کیا ہے۔ جاری کردہ ہدایات میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ 21 فروری 2026 کے بعد کسی بھی ٹیچر کو بلیک گاؤن کے بغیر کلاس لینے یا سکول میں ڈیوٹی سرانجام دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس پالیسی کو “No Gown, No Class” (گاؤن نہیں تو کلاس نہیں) کے اصول پر نافذ کیا جائے گا، اور خلاف ورزی کرنے والے اساتذہ کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

تمام سی ای اوز(CEOs) کو سخت ہدایات جاری

اس حکم نامے پر سو فیصد عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے پنجاب بھر کی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز (CEOs) کو مراسلے جاری کر دیے گئے ہیں۔

سی ای اوز اور سکول سربراہان (Headmasters/Principals) کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ:

فروری سے قبل تمام اساتذہ تک اس حکم نامے کی اطلاع پہنچائیں21

مقررہ تاریخ سے روزانہ کی بنیاد پر مارننگ اسمبلی میں ڈریس کوڈ کی چیکنگ یقینی بنائیں۔

جو ٹیچر گاؤن کے بغیر سکول آئے، اسے کلاس میں جانے سے روک دیا جائے اور رپورٹ اعلیٰ حکام کو بھجوائی جائے۔

سرکاری نوٹیفکیشن اور مزید معلومات

اساتذہ اور عوام الناس اس نئے حکم نامے کا باضابطہ نوٹیفکیشن اور مزید تفصیلات محکمہ سکول ایجوکیشن کی آفیشل ویب سائٹس یا تعلیمی پورٹلز جیسے کہ www.pesrp.pk پر دیکھ سکتے ہیں۔۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

سوال: پنجاب میں اساتذہ کے لیے نیا ڈریس کوڈ کب سے نافذ ہوگا؟

جواب: نئے ڈریس کوڈ کا اطلاق 21 فروری 2026 سے پورے پنجاب میں ہوگا۔

سوال: کیا یہ ڈریس کوڈ صرف خواتین اساتذہ کے لیے ہے؟

جواب: جی نہیں، وزیراعلیٰ کے حکم کے مطابق بلیک گاؤن پہننا مرد اور خواتین دونوں اساتذہ کے لیے لازمی ہے۔

سوال: کیا پرائمری سکول کے اساتذہ کو بھی گاؤن پہننا ہوگا؟

جواب: ہاں، یہ حکم نامہ پرائمری سے لے کر ہائی/ہائیر سیکنڈری لیول تک کے تمام سرکاری اساتذہ کے لیے ہے۔

سوال: اگر کوئی ٹیچر گاؤن پہن کر نہ آئے تو کیا ہوگا؟

جواب: سخت ہدایات کے مطابق، جو ٹیچر بلیک گاؤن نہیں پہنے گا، اسے کلاس لینے یا ڈیوٹی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

More About Program

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *